صحیح مسلم حدیث ۲۵۶۰ - رات مشرق سے آئے تو افطار
افطار کا صحیح وقت: رات کا آنا اور سورج کا ڈوبنا
صحیح مسلم : ۲۵۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۶۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ ، قَالَ لِرَجُلٍ : " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ ، قَالَ : " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " ، قَالَ : إِنَّ عَلَيْنَا نَهَارًا ، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ ، فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " ،
عبداللہ روایت:
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون مروی ہے مگر اتنا فرق ہے کہ انہوں نے عرض کی کہ اگر آپ شام ہونے دیں تو خوب ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں فرمایا: ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہ ”جب رات کو دیکھو کہ ادھر آئی تو افطار کر چکا صائم۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۵۶۰ کا خلاصہ
یہ روایت اسی سفر والے واقعے کو ایک اور انداز سے بیان کرتی ہے۔ جب سورج ڈوب گیا تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہمارے لیے ستو گھولو۔ صحابی نے عرض کیا کہ اگر آپ شام ہونے دیں تو بہتر ہو، پھر بھی آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں یہی کام کرنے کو کہا۔ جب ستو تیار ہوا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے پیا، پھر مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ جب تم رات کو ادھر سے آتے دیکھو تو روزہ دار کا افطار ہو گیا۔ اس حدیث میں افطار کا وقت بہت صاف ہے: سورج ڈوبنے کے بعد رات کا آنا علامت ہے۔ روزہ دار کے لیے پیغام یہ ہے کہ افطار میں غیر ضروری انتظار نہ کیا جائے، بلکہ وقت آ جانے پر روزہ کھول لیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سفر میں افطار کے وقت کو عمل سے سمجھایا۔
- رات کے مشرق سے آنے کو افطار کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا۔
- غروب کے بعد افطار میں بلا وجہ دیر نہ کرنے کا اشارہ ملتا ہے۔
