صحیح مسلم حدیث ۲۵۸۱ - روزہ میں بوسہ کی اجازت

روزہ میں بوسہ: صائم کے لیے حدیث کا اصل پیغام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۸۱

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ " ،

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بوسہ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع روزہ میں بوسہ ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خبر دیتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کا بوسہ لیا اور آپ صلى الله عليه وسلم روزے سے تھے۔ اس سے اتنی بات صاف سامنے آتی ہے کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں، بلکہ آدمی اپنے نفس کو سنبھال کر جائز حد میں رہتا ہے۔ حدیث میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ ایک مختصر عمل بیان ہوا ہے۔ اس لیے اس کی تشریح بھی اسی حد میں رہنی چاہیے۔ صائم کا بوسہ لینا، رمضان میں بیوی کا بوسہ، اور روزہ دار کے ازدواجی آداب جیسے الفاظ اسی مضمون کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل پاکیزہ، قابو کے ساتھ اور روزے کی حالت میں تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روزے کی حالت میں نبی صلى الله عليه وسلم سے بوسہ لینا ثابت ہے۔
  • حدیث میں عمل مختصر بیان ہوا ہے، اس لیے بات کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔
  • روزہ دار کو اپنے نفس اور حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں