صحیح مسلم حدیث ۲۷۱۵ - صبح سے روزہ تھا پھر کھایا
نفلی روزہ اور حیس کا ہدیہ: آسان حدیثی بیان
صحیح مسلم : ۲۷۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۱۵
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ " ، فَقُلْنَا : لَا ، قَالَ : " فَإِنِّي إِذَنْ صَائِمٌ " ، ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، فَقَالَ : " أَرِينِيهِ فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا ، فَأَكَلَ " .
عائشہ روایت:
ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا: ”تمہارے پاس کچھ ہے؟“ ہم نے کہا: کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں تو روزے سے ہوں۔“ پھر آئے ہمارے پاس دوسرے دن پھر میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! حیس ہمارے پاس آیا ہے ہدیہ میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دکھاؤ اور میں صبح سے روزے سے تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھایا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۷۱۵ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کا واقعہ ہے۔ ایک دن نبی صلى الله عليه وسلم تشریف لائے اور پوچھا: تمہارے پاس کچھ ہے؟ جواب ملا کہ نہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: میں تو روزے سے ہوں۔ پھر دوسرے دن جب حیس ہدیہ میں آیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: مجھے دکھاؤ، میں صبح سے روزے سے تھا، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے کھا لیا۔ اس حدیث کے لیے اہم سرچ لفظ “نفلی روزہ حیس حدیث” ہے۔ متن ہمیں ایک سادہ گھریلو واقعہ دکھاتا ہے، جس میں روزہ، کھانے کا نہ ہونا، ہدیہ کا آنا، اور بعد میں کھانا سب صاف الفاظ میں موجود ہے۔ اس سے باہر کوئی اضافی حکم اپنی طرف سے بیان نہیں کیا جا رہا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھانا نہ ہونے پر آپ صلى الله عليه وسلم نے روزہ رکھنے کا فرمایا۔
- حیس ہدیہ میں آیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے دیکھنے کو کہا۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ صبح سے روزے سے تھا، پھر کھایا۔
