صحیح مسلم حدیث ۲۷۱۶ - روزے میں بھول کر کھا پی لینا
روزے میں بھول کر کھا لیا تو کیا کرے؟
صحیح مسلم : ۲۷۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۱۶
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھول کر کھا لے یا پی لے اور وہ روزہ دار ہو تو اپنا روزہ پورا کر لے اس لئے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے کھلا پلا دیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۷۱۶ کا خلاصہ
یہ حدیث روزہ دار کے ایک عام سوال کا صاف جواب دیتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو شخص روزے کی حالت میں بھول کر کھا لے یا پی لے، وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی سرچ لفظ “روزے میں بھول کر کھانا حدیث” ہے۔ متن کے مطابق بھول جانا اصل بات ہے، جان بوجھ کر کھانے پینے کا ذکر اس حدیث میں نہیں۔ اس لیے سمجھنے میں احتیاط ضروری ہے۔ حدیث روزہ دار کو گھبراہٹ کے بجائے روزہ مکمل کرنے کی بات سکھاتی ہے۔ اگر بھول سے کچھ کھا یا پی لیا گیا ہو تو اسی حدیث کے الفاظ کے مطابق روزہ پورا کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بھول کر کھانے یا پینے والے کو روزہ پورا کرنے کا حکم ہے۔
- حدیث میں اسے اللہ کی طرف سے کھلانا پلانا کہا گیا ہے۔
- یہ حکم بھول جانے کی حالت کے بارے میں ہے، جان بوجھ کر نہیں۔
