صحیح مسلم حدیث ۲۷۱۷ - رمضان کے سوا پورا مہینہ نہیں

رمضان کے علاوہ نبی صلى الله عليه وسلم کے روزوں کا معمول

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۱۷

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ ؟ قَالَتْ : " وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ ، وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ " .

عبداللہ بن شقیق روایت:

میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے رمضان المبارک کے سوا تو انہوں نے فرمایا: کہ اللہ کی قسم! کسی ماہ کے پورے روزے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں رکھے سوائے رمضان کے یہاں تک کہ دنیا سے تشریف لے گئے اور نہ کسی پورے مہینہ پر افطار کیا تھا یہاں تک کہ کوئی دن اس سے روزہ نہ رکھا ہو۔

صحیح مسلم حدیث ۲۷۱۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن شقیق نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی صلى الله عليه وسلم رمضان کے علاوہ کسی مقرر مہینے کے پورے روزے رکھتے تھے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے رمضان کے سوا کسی معلوم مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے، یہاں تک کہ دنیا سے تشریف لے گئے۔ اور ایسا بھی نہیں کہ کوئی پورا مہینہ بالکل روزہ نہ رکھا ہو، بلکہ اس میں کچھ روزے رکھتے تھے۔ اس حدیث کا اہم سرچ لفظ “رمضان کے علاوہ پورا مہینہ روزہ” ہے۔ متن ہمیں نبی صلى الله عليه وسلم کے نفلی روزوں کے معمول کے بارے میں سادہ اور متوازن بات بتاتا ہے: رمضان مکمل، اور دوسرے مہینوں میں کبھی روزہ، کبھی افطار۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رمضان کے پورے روزوں کا ذکر خاص طور پر آیا ہے۔
  • رمضان کے علاوہ کسی متعین مہینے کے پورے روزوں کی نفی کی گئی ہے۔
  • دوسرے مہینوں میں کچھ دن روزہ رکھنے کا ذکر بھی موجود ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں