صحیح مسلم حدیث ۲۷۱۹ - کبھی زیادہ روزے، کبھی افطار
نبی صلى الله عليه وسلم کا معمولِ روزہ: کبھی روزے، کبھی افطار
صحیح مسلم : ۲۷۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۱۹
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ حَمَّادٌ : وَأَظُنُّ أَيُّوبَ قَدْ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ ، قَالَتْ : وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانَ " ،
عبداللہ بن شقیق روایت:
میں نے پوچھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کو، تو آپ نے فرمایا: روزہ رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ ہم کہتے تھے آپ نے خوب روزے رکھے، خوب روزے رکھے اور افطار کرتے تھے ایسا کہ ہم کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دن افطار کیا، بہت دن افطار کیا اور فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ پورے ماہ روزہ رکھا ہو کبھی جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے مگر رمضان کا روزہ۔
صحیح مسلم حدیث ۲۷۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم کے روزوں کا عمومی حال بتایا۔ آپ صلى الله عليه وسلم روزے رکھتے تو صحابہ کو لگتا کہ بہت روزے رکھ رہے ہیں، اور جب افطار کرتے تو لگتا کہ کافی دن افطار کیا۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مدینہ آنے کے بعد انہوں نے آپ صلى الله عليه وسلم کو رمضان کے سوا کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ اس حدیث کا اہم سرچ لفظ “نبی صلى الله عليه وسلم کا معمول روزہ” ہے۔ یہ روایت ہمیں روزوں میں ایک عملی توازن دکھاتی ہے۔ متن میں نہ ہر وقت روزہ رکھنے کا دعویٰ ہے، نہ ہر ماہ مکمل چھوڑنے کا۔ بس وہی بات ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیکھی اور بیان کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آپ صلى الله عليه وسلم کبھی مسلسل کئی روزے رکھتے تھے۔
- کبھی کئی دن افطار بھی فرماتے تھے۔
- رمضان کے سوا پورے مہینے کے روزے رکھنے کا مشاہدہ بیان نہیں ہوا۔
