صحیح مسلم حدیث ۲۷۶۴ - شب قدر آخری عشرے میں تلاش کرنے کی رہنمائی
شب قدر کی تلاش: رمضان کے آخری دس دن
صحیح مسلم : ۲۷۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۶۴
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ : " إِنَّ نَاسًا مِنْكُمْ قَدْ أُرُوا أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الْأُوَلِ ، وَأُرِيَ نَاسٌ مِنْكُمْ أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الْغَوَابِرِ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ " .
سالم روایت:
سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: ”چند لوگوں نے تم میں سے شب قدر کو سات تاریخوں میں اول کی دیکھا ہے یعنی خواب میں اور چند لوگوں نے سات تاریخوں میں آخر کی دیکھا ہے۔ سو تم آخر کی دس تاریخوں میں تلاش کرو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۷۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے بارے میں فرمایا کہ کچھ لوگوں کو خواب میں یہ پہلے سات میں دکھائی گئی اور کچھ کو آخری سات میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف خوابوں کے باوجود عملی ہدایت آخری عشرہ رمضان کی طرف دی گئی۔ یہاں شب قدر کی حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ رمضان کے آخری دس دنوں کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ جو شخص لیلتہ القدر کی تلاش چاہتا ہے، اسے آخری عشرے میں زیادہ توجہ رکھنی چاہیے۔ حدیث میں اسی تلاش، دھیان اور عبادت کے ماحول کی طرف بلایا گیا ہے، نہ کہ غیر ضروری بحث کی طرف۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مختلف خوابوں کا ذکر آیا، مگر عملی حکم آخری دس راتوں کا دیا گیا۔
- شب قدر کی تلاش میں آخری عشرہ خاص ہے۔
- بندے کو قیاس کے بجائے نبوی ہدایت پر چلنا چاہیے۔
