صحیح مسلم حدیث ۲۷۷۲ - طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش اور بارش کا واقعہ
شب قدر کی طاق راتیں: ابوسعید خدریؓ کی روایت
صحیح مسلم : ۲۷۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۷۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَكَانَ لِي صَدِيقًا ، فَقُلْتُ : أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ ، فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ ، فَقُلْتُ لَهُ : سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ؟ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوُسْطَى مِنْ رَمَضَانَ ، فَخَرَجْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ ، فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نَسِيتُهَا أَوْ أُنْسِيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ كُلِّ وِتْرٍ ، وَإِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ " ، قَالَ : فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً ، قَالَ : وَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ ، وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ ، قَالَ : حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ ،
ابوسلمہ روایت:
ہم نے آپس میں ذکر کیا شب قدر کا تو میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ میرے دوست تھے اور میں نے ان سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ کھجور کے باغ میں نہیں چلتے تو وہ ایک چادر اوڑھے ہوئے نکلے اور میں نے کہا کہ آپ نے کچھ سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ذکر کرتے ہوں شب قدر کا؟انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے اعتکاف کیا رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیچ کے عشرہ میں رمضان کے اور ہم بیسویں کی صبح کو نکلے (یعنی اعتکاف سے) پھر خطبہ پڑھا ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور فرمایا: ”مجھے دکھائی دی شب قدر اور میں بھول گیا اسے۔“ یا فرمایا: ”بھلا دیا گیا سو تم اس کو اخیر کی دس تاریخوں میں طاق راتوں میں ڈھونڈو۔“ اور فرمایا: ”میں اپنے آپ کو دیکھتاہوں کہ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ پھر جس نے اعتکاف کیا ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو وہ پھر جائے۔“یعنی اپنے معتکف میں اور ہم لوگ پھر معتکف میں آ گئے اور ہم آسمان میں کوئی بدلی کا ٹکڑا تک نہیں دیکھتے تھے کہ اتنے میں ابر آیا اور ہم پر مینہ برسا یہاں تک کہ مسجد کی چھت بہنے لگی اور کھجور کی ڈالیوں سے پٹی ہوئی تھی اور نماز صبح کی تکبیر ہوئی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ سجدہ کرتے ہیں پانی اور کیچڑ میں (یعنی جو خواب میں دیکھا تھا وہ صحیح ہوا) یہاں تک کہ دیکھا میں نے اثر کیچڑ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی میں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۷۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے شب قدر کا ذکر کیا، پھر وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ مجھے شب قدر دکھائی گئی، پھر میں اسے بھول گیا یا بھلا دیا گیا، اس لیے اسے آخری دس راتوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ پھر پانی اور کیچڑ میں سجدے کی نشانی بیان ہوئی۔ بعد میں بارش ہوئی، مسجد کی چھت ٹپکی، اور ابوسعید رضی اللہ عنہ نے آپ کی پیشانی پر کیچڑ کا اثر دیکھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شب قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم ہے۔
- صحابی نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی بات نقل کی۔
- پانی اور کیچڑ میں سجدے کی نشانی واقعے میں ظاہر ہوئی۔
