صحیح مسلم حدیث ۲۸۱۵ - تلبیہ میں شرک کی نفی

تلبیہ اور توحید: لا شریک لک کا صحیح پیغام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۱۵

وحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ : لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، قَالَ : فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ " ، فَيَقُولُونَ : إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ ، يَقُولُونَ : هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ .

عبداللہ بن عباس روایت:

مشرکین مکہ کہتے تھے «لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ» ‏‏‏‏ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”خرابی ہو تمہاری یہیں تک رہنے دو۔“ (یعنی آگے نہ کہو) اور وہ اس کے آگے کہتے تھے کہ مگر ایک شریک ہے تیرا کہ یا اللہ! تو اس کا مالک ہے اور وہ کسی شئے کا مالک نہیں۔ غرض یہی کہتے جاتے تھے اور بیت اللہ کا طواف کرتے جاتے تھے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۸۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں تلبیہ کے اندر توحید کا پہلو بہت صاف انداز میں سامنے آتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مشرکین مکہ کہتے تھے: لبیک لا شریک لک۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: تمہاری خرابی ہو، بس یہیں تک رہنے دو۔ لیکن وہ آگے کہتے: مگر ایک شریک ہے تیرا، تو اس کا مالک ہے اور وہ کسی چیز کا مالک نہیں۔ وہ یہ کلمات کہتے ہوئے بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ “لا شریک لک” پر رکنا توحید کا صاف اقرار ہے، مگر اس کے بعد شریک کا اضافہ غلط تھا۔ “تلبیہ اور توحید”، “لا شریک لک معنی” اور “شرک کی نفی حدیث” کے لیے یہ روایت بہت واضح تنبیہ دیتی ہے، مگر ہمیں اسی متن تک رہتے ہوئے بات کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تلبیہ میں اللہ کے لیے شریک کی نفی اصل بات ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط اضافے سے روکا۔
  • مشرکین طواف کے دوران ایسے الفاظ کہتے تھے جن میں شریک کا ذکر تھا۔
  • توحید کے الفاظ میں غلط اضافہ دین کے مفہوم کو بدل دیتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں