صحیح مسلم حدیث ۲۸۴۸ - اگر احرام نہ ہوتا تو ہدیہ قبول کیا جاتا

احرام میں شکار کا ہدیہ کیوں واپس کیا گیا؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۴۸

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ " ،

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔ مگر اس میں ہے کہ ”اگر ہم احرام باندھے ہوئے نہ ہوتے تو آپ کا ہدیہ قبول کرتے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۸۴۸ کا خلاصہ

یہ روایت احرام میں شکار کے ہدیہ کے مسئلے کو بہت صاف کر دیتی ہے۔ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کو جنگلی گدھا ہدیہ کیا، جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم احرام میں تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے واپس فرمایا اور کہا کہ اگر ہم محرم نہ ہوتے تو تم سے قبول کر لیتے۔ اس جملے سے ہدیہ دینے والے کی دلجوئی بھی ہوئی اور اصل وجہ بھی واضح ہو گئی۔ یہاں بات عام ہدیہ کی نہیں، بلکہ شکار کے گوشت یا شکار کے ہدیہ کی ہے جو احرام کی حالت میں پیش کیا گیا۔ اس حدیث میں نرم جواب، وضاحت اور احرام کی پابندی تینوں باتیں ساتھ آتی ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہدیہ واپس کرنے کی وجہ احرام بتائی گئی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ہدیہ دینے والے کا دل رکھنے والا انداز اختیار فرمایا۔
  • حدیث میں شکار کے ہدیہ کو احرام سے جوڑ کر بیان کیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں