صحیح مسلم حدیث ۲۸۴۷ - احرام کی حالت اور شکار کے گوشت کا ہدیہ
احرام میں شکار کا گوشت: ہدیہ واپس کرنے کی وجہ
صحیح مسلم : ۲۸۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۴۷
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : أَهْدَيْتُ لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارِ وَحْشٍ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۴۷ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کے واقعے سے متعلق ہے۔ یہاں الفاظ میں یہ آیا ہے کہ انہوں نے جنگلی گدھے کے گوشت میں سے ہدیہ پیش کیا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے واپس کر دیا، اور دوسری روایات میں وجہ یہ بیان ہوئی کہ آپ صلى الله عليه وسلم احرام میں تھے۔ اس روایت کا اصل موضوع احرام میں شکار کا گوشت ہے، نہ کہ عام ہدیہ دینے یا لینے کا مسئلہ۔ اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے جو حدیث کے متن میں ہے۔ حج اور عمرہ کے دوران شکار کے معاملے میں احتیاط، سوال اور واضح جواب اس مضمون کا اہم حصہ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں شکار کے گوشت کا ذکر آیا ہے۔
- متعلقہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وجہ احرام تھی۔
- حدیث کا موضوع خاص طور پر احرام اور شکار کا ہدیہ ہے۔
