صحیح مسلم حدیث ۲۸۴۶ - احرام میں شکار کا ہدیہ: ایک ہی مضمون
احرام میں شکار کا ہدیہ واپس کرنے کی روایت
صحیح مسلم : ۲۸۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۴۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، وَقُتَيْبَةُ جميعا ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ كَمَا قَالَ مَالِكٌ ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ ، وَصَالِحٍ ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۴۶ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلی حدیث ہی کا مضمون دوسری سند سے بیان ہوا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے جنگلی گدھا نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں پیش کیا، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے احرام کی حالت کی وجہ سے اسے واپس فرما دیا۔ چونکہ اس روایت میں نیا حکم الگ سے بیان نہیں ہوا، اس لیے اسے اسی واقعے کی تائید کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ احرام میں شکار کا ہدیہ تلاش کرنے والے قاری کے لیے یہ بات اہم ہے کہ حدیث کا مرکز شکار، ہدیہ اور احرام ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ہدیہ دینے والے کو یہ نہیں محسوس ہونے دیا کہ اسے ذاتی وجہ سے رد کیا گیا، بلکہ اصل سبب احرام بتایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی واقعہ کئی سندوں سے نقل ہو سکتا ہے۔
- اصل سبب احرام کی حالت تھا، ذاتی ناراضی نہیں۔
- شکار کا ہدیہ قبول نہ کرنے کا مضمون برقرار ہے۔
