صحیح مسلم حدیث ۲۸۴۵ - احرام میں شکار کا ہدیہ واپس کرنا
احرام میں شکار کا ہدیہ: نبی صلى الله عليه وسلم کا نرم جواب
صحیح مسلم : ۲۸۴۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۴۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَلَمَّا أَنْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي ، قَالَ : " إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ ، إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ " ،
صعب بن جثامہ روایت:
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنگلی گدھا ہدیہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابواء یا ودان میں تھے (کہ مقام کا نام ہے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھیر دیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ان کے چہرے کا ملال تو فرمایا: ”ہم نے کسی اور وجہ سے نہیں پھیرا اتنا ہے کہ ہم لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۸۴۵ کا خلاصہ
یہ حدیث احرام میں شکار کے ہدیہ کے بارے میں ایک اہم بات بتاتی ہے۔ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کو جنگلی گدھا ہدیہ کیا، جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم ابواء یا ودان کے مقام پر تھے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے وہ ہدیہ واپس کر دیا۔ جب صعب رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ملال دیکھا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے وجہ صاف الفاظ میں بتا دی کہ ہم نے کسی ناراضی کی وجہ سے نہیں لوٹایا، بلکہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔ اس میں ایک طرف احرام کی پابندی نظر آتی ہے، دوسری طرف نبی صلى الله عليه وسلم کا نرم انداز بھی سامنے آتا ہے کہ ہدیہ دینے والے کا دل نہ ٹوٹے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام کی حالت میں شکار کے ہدیہ سے بچنے کا ذکر آیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ہدیہ واپس کرنے کی وجہ صاف بیان فرمائی۔
- کسی کے دل کا خیال رکھنا بھی اس واقعہ میں نظر آتا ہے۔
