صحیح مسلم حدیث ۲۸۴۴ - احرام سے پہلے خوشبو پر سیدہ عائشہؓ کی گواہی
احرام سے پہلے خوشبو کی حدیث: اختلاف کے وقت واضح بات
صحیح مسلم : ۲۸۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۴۴
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا ، قَالَ : فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ ، فَقَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَافَ فِي نِسَائِهِ ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں ڈانبر لگانے کو زیادہ پسند کرتا ہوں اس بات سے کہ میں خوشبو جھاڑوں صبح کو محرم ہونے کی حالت میں۔ آپ نے کہا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے یہ بات پوچھی تو انہوں نے فرمایا: میں خوشبو لگاتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس جاتے اور آپ صبح کرتے محرم ہونے کی حالت میں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک علمی انداز بھی نظر آتا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ انہیں محرم ہونے کی حالت میں خوشبو جھڑتی ہوئی پسند نہیں۔ پھر محمد بن منتشر کے والد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور بات پوچھی۔ سیدہ عائشہؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو خوشبو لگائی، پھر آپ صلى الله عليه وسلم اپنی ازواج کے پاس گئے، پھر صبح محرم ہوئے۔ اس روایت کا اصل موضوع احرام سے پہلے خوشبو ہے۔ یہاں کسی نئی بات کو بڑھا کر بیان کرنے کی ضرورت نہیں؛ حدیث میں جتنا آیا ہے، اتنا ہی کافی ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ صحابہ کرام مسئلہ سمجھنے کے لیے دوسرے جاننے والوں سے بھی پوچھتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسئلہ سمجھنے کے لیے صحابہ کرام اہل علم سے پوچھتے تھے۔
- سیدہ عائشہؓ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو اپنی گواہی سے بیان کیا۔
- روایت میں احرام سے پہلے خوشبو لگانے کا ذکر ہے۔
