صحیح مسلم حدیث ۱۱۹۱ - نماز وقت پر پڑھنے کی ہدایت
نماز وقت پر پڑھنے کی حدیث اور جماعت کا طریقہ
صحیح مسلم : ۱۱۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۹۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، وَعَلْقَمَةَ ، قَالَا : أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي دَارِهِ ، فَقَالَ : أَصَلَّى هَؤُلَاءِ خَلْفَكُمْ ؟ فَقُلْنَا : لَا ، قَالَ : فَقُومُوا فَصَلُّوا ، فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِأَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، قَالَ : وَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ ، فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا ، فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ ، قَالَ : فَلَمَّا رَكَعَ ، وَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا ، قَالَ : فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا ، وَطَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ ، قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : " إِنَّهُ سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ ، يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مِيقَاتِهَا ، وَيَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ قَدْ فَعَلُوا ذَلِكَ ، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا ، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً ، وَإِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَصَلُّوا جَمِيعًا ، وَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ ، وَإِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ، وَلْيَجْنَأْ وَلْيُطَبِّقْ بَيْنَ كَفَّيْهِ " ، فَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَاهُمْ .
اسود اور علقمہ سے روایت ہے کہ ہم دونوں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان کے گھر میں۔ انہوں نے پوچھا کیا ان لوگوں نے (یعنی اس زمانہ کے نوابوں اور امیروں نے) نماز پڑھ لی تمہارے پیچھے۔ ہم نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: اٹھو نماز پڑھ لو کیونکہ نماز کا وقت ہو گیا اور امیروں اور نوابوں کے انتظار میں اپنی نماز میں دیر کرنا ضروری نہیں، پھر ہم کو حکم نہ کیا اذان دینے اور نہ اقامت کا۔ ہم ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے تو ہمارے ہاتھ پکڑ کر ایک کو داہنی طرف کیا اور دوسرے کو بائیں طرف۔ جب رکوع کیا تو ہم نے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے۔ انہوں نے ہمارے ہاتھ مارا اور ہتھیلیوں کو جوڑ کر رانوں کے بیچ میں رکھا۔ جب نماز پڑھ چکے تو کہا: اب تمہارے نواب اور امیر ایسے پیدا ہوں گے جو نماز میں اس کے وقت سے دیر کریں گے اور نماز کو تنگ کریں گے۔ یہاں تک کہ آفتاب ڈوبنے کے قریب ہو گا (یعنی عصر کی نماز میں اتنی دیر کریں گے) «جب» تم ان کو ایسا کرتے دیکھو تو اپنی نماز وقت پر پڑھ لو (یعنی افضل وقت پر) پھر ان کے ساتھ دوبارہ نفل کے طور پر پڑھ لو۔ اور جب تم تین آدمی ہو تو سب مل کر نماز پڑھو (یعنی برابر کھڑے ہو۔ امام بیچ میں رہے) اور جب تین سے زیادہ ہوں تو ایک آدمی امام بنے اور وہ آگے کھڑا ہو۔ اور جب رکوع کرے تو اپنے ہاتھوں کو رانوں پر رکھے اور جھکے اور دونوں ہتھیلیاں جوڑ کر رانوں میں رکھ لے گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو دیکھ رہا ہوں۔
صحیح مسلم حدیث ۱۱۹۱ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز وقت پر پڑھنے کی اہم بات سکھاتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر میں اسود اور علقمہ کو نماز پڑھائی، اذان اور اقامت کا حکم نہیں دیا، اور دونوں کو اپنے دائیں بائیں کھڑا کیا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ ایسے امیر آئیں گے جو نماز کو اس کے وقت سے دیر کریں گے۔ اس صورت میں حکم دیا کہ اپنی نماز وقت پر پڑھ لو، پھر ان کے ساتھ پڑھو تو اسے نفل بنا لو۔ حدیث میں تین آدمیوں کی جماعت کا طریقہ بھی آیا کہ تین ہوں تو ساتھ کھڑے ہوں، اور زیادہ ہوں تو ایک امام آگے ہو۔ رکوع میں ہاتھ رکھنے کا ایک طریقہ بھی بیان ہوا، مگر اسی باب کے بعد آنے والی روایات میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا حکم بھی آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کو اس کے وقت پر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
- اگر حاکم یا امیر نماز دیر سے پڑھائیں تو پہلے اپنی نماز وقت پر پڑھنے کی ہدایت آئی ہے۔
- تین آدمیوں کی جماعت میں امام کے ساتھ کھڑے ہونے کی صورت بیان ہوئی ہے۔
- حدیث میں صحابہ کرام کا نماز کے طریقے کو عملی طور پر سکھانا نظر آتا ہے۔
