صحیح مسلم حدیث ۱۱۹۲ - رکوع کی حالت کا بیان

رکوع کی حالت والی روایت: نماز کے عمل کو سمجھنے کا طریقہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۹۲

وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، ح ، قَالَ : وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ كُلُّهُمْ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، أنهما دخلا على عبد الله ، بمعنى حديث أبي معاوية ، وفي حديث ابن مسهر ، وجرير ، فلكأني أنظر إلى اختلاف أصابع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ رَاكِعٌ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی گزشتہ حدیث کے ہم معنی روایت آئی ہے مگر اس میں لفظ کا اضافہ ہے «وَهُوَ رَاكِع» کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کی حالت میں تھے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۱۹۲ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے ہم معنی ہے، مگر اس میں ایک لفظ کا اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کی حالت میں تھے۔ اس لیے اس کا مرکزی موضوع رکوع کی حدیث ہے۔ اس طرح کی روایات ہمیں بتاتی ہیں کہ صحابہ کرام نماز کے طریقے کو صرف زبانی نہیں، بلکہ دیکھے ہوئے عمل کے طور پر بیان کرتے تھے۔ جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رکوع کے وقت انگلیوں کے ملنے کا ذکر کیا تو راوی نے گویا اس منظر کو یاد رکھا۔ یہاں ایک بات سمجھنی چاہیے کہ یہ روایت اسی مضمون کا حصہ ہے جس میں نماز کے وقت، جماعت کی ترتیب اور رکوع کا طریقہ آیا ہے۔ بعد کی روایات میں رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا حکم بھی بیان ہوا، اس لیے اس باب میں طریقہ نماز کے مختلف نقل شدہ پہلو سامنے آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام نماز کے عمل کو بہت توجہ سے یاد رکھتے تھے۔
  • رکوع کی حالت کا ذکر نماز کے طریقے کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
  • یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
  • نماز کے احکام میں الفاظ کے چھوٹے اضافے بھی معنی واضح کر سکتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں