صحیح مسلم حدیث ۲۸۶۸ - احرام میں پانچ جانور مارنے پر گناہ نہیں

احرام میں پانچ جانور مارنے پر گناہ نہیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۶۸

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ وَالْإِحْرَامِ : الْفَأْرَةُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " ، وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ : فِي الْحُرُمِ وَالْإِحْرَامِ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۸۶۸ کا خلاصہ

یہ حدیث احرام میں ایذا دینے والے جانوروں کے حکم کو بہت واضح لفظوں میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم اور احرام میں قتل کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں۔ ان میں چوہا، بچھو، کوا، چیل اور کٹ کھنا کتا شامل ہیں۔ اس روایت میں لا جناح کا لفظ آیا ہے، یعنی اس خاص معاملے میں گناہ نہیں۔ حج یا عمرہ کے دوران محرم شخص عموماً شکار اور جانوروں کے بارے میں محتاط رہتا ہے، مگر یہاں مخصوص ایذا رساں جانوروں کا الگ حکم بیان ہوا ہے۔ اسی وجہ سے لوگ محرم کون سے جانور مار سکتا ہے، احرام میں بچھو مارنا، اور حرم میں چوہا مارنے کا حکم جیسے سوالات تلاش کرتے ہیں۔ حدیث کا مفہوم اسی فہرست اور اسی اجازت تک محدود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • احرام کی حالت میں ان پانچ مخصوص جانوروں کو مارنے پر گناہ نہیں بتایا گیا۔
  • چوہا، بچھو، کوا، چیل اور کٹ کھنا کتا اس روایت میں شامل ہیں۔
  • حدیث حرم اور احرام دونوں کا ذکر کرتی ہے۔
  • اجازت عام شکار کے لیے نہیں بلکہ مخصوص ایذا رساں جانوروں کے لیے ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں