صحیح مسلم حدیث ۲۸۶۷ - حرم میں پانچ فاسق جانور

حرم میں پانچ فاسق جانوروں کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۶۷

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهَا فَوَاسِقُ تُقْتَلُ فِي الْحَرَمِ : الْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۸۶۷ کا خلاصہ

یہ حدیث حرم میں ایذا دینے والے جانوروں کے بارے میں ایک صاف فہرست دیتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور سب کے سب فاسق ہیں، انہیں حرم میں قتل کیا جاتا ہے۔ اس روایت میں کوا، چیل، کٹ کھنا کتا، بچھو اور چوہا ذکر ہوئے ہیں۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ حدیث عام شکار یا عام جانوروں کے بارے میں نہیں، بلکہ مخصوص جانوروں کے بارے میں ہے جنہیں ایذا رساں کہا گیا۔ اسی لیے حج، عمرہ، احرام اور حرم کے مسائل میں یہ حدیث بار بار سامنے آتی ہے۔ اردو سرچ میں لوگ اسے حرم میں پانچ فاسق جانور، ایذا دینے والے جانوروں کی حدیث، اور محرم کے لیے جانور مارنے کا حکم کے طور پر ڈھونڈتے ہیں۔ متن کے مطابق بات صرف ان نامزد جانوروں تک رکھی گئی ہے تاکہ کوئی اضافی حکم شامل نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کوا، چیل، کٹ کھنا کتا، بچھو اور چوہا اس روایت میں نام لے کر بیان ہوئے ہیں۔
  • حدیث میں انہیں فاسق یعنی ایذا دینے والے جانور کہا گیا ہے۔
  • حرم میں بھی ان کے قتل کا حکم بیان ہوا ہے۔
  • عام جانوروں کے بجائے حدیث مخصوص جانوروں کی بات کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں