صحیح مسلم حدیث ۲۸۷ - چلا کر رونا اور کپڑے پھاڑنا
مصیبت میں چلا کر رونا: حدیث میں سخت تنبیہ
صحیح مسلم : ۲۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۷
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ ، وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ ، فَصَاحَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ ، وَالْحَالِقَةِ ، وَالشَّاقَّةِ " .
ابوبردہ بن ابی موسیٰ روایت:
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے، ان کو غش آ گیا۔ ان کا سر ایک عورت کی گود میں تھا، ان کے گھر والوں میں سے، تو ایک عورت چلائی ان کے گھر والوں میں سے۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو طاقت نہ ہوئی اس کو منع کرنے کی۔ جب ہوش آیا تو کہا: میں بیزار ہوں اس سے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیزار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیزار ہوئے ہیں چلانے والی سے (یعنی جو عورت مصیبت میں چلا کر رو دے) اور بال منڈانے والی ہے (یعنی جو عورت غمی میں بال منڈائے) اور کپڑے پھاڑنے والی سے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۷ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ بیماری کی شدت میں انہیں غش آ گیا، اس وقت گھر کی ایک عورت چلا کر رونے لگی۔ جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے کہا کہ میں اس سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیزار ہوئے۔ پھر بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلا کر رونے والی، غم میں بال منڈانے والی اور کپڑے پھاڑنے والی سے بیزار ہوئے۔ اس حدیث میں مصیبت کے وقت بے قابو ماتم کی ممانعت ہے۔ غم کا ہونا الگ بات ہے، مگر چیخنا، بال منڈانا اور کپڑے پھاڑنا ایسے کام ہیں جن سے منع کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مصیبت میں چلا کر رونا ناپسندیدہ عمل ہے۔
- غم میں بال منڈانے والی رسم سے منع کیا گیا ہے۔
- کپڑے پھاڑنا صبر کے خلاف عمل ہے۔
- بزرگ صحابہ بھی ایسی باتوں سے لوگوں کو روکتے تھے۔
