صحیح مسلم حدیث ۲۸۸ - غم میں چیخنا اور کپڑے پھاڑنا

غم میں چیخ و پکار کی حدیث: صبر والا طریقہ اختیار کریں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْكُرُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وأبى بردة بن أبي موسى ، قَالَا : أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، وَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ ، قَالَا : ثُمَّ أَفَاقَ ، قَالَ : أَلَمْ تَعْلَمِي ، وَكَانَ يُحَدِّثُهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ ، حَلَقَ ، وَسَلَقَ وَخَرَقَ " .

عبدالرحمن بن یزید اور ابی بردہ روایت:

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بے ہوش ہو گئے تو ان کی عورت ام عبداللہ آئی چلا رہی تھی رو رو کر۔ پھر ان کو ہوش ہوا تو کہا: کیا تو نہیں جانتی اور حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں بیزار ہوں۔ اس شخص سے جو بال منڈائے اور چلا کر روئے اور کپڑے پھاڑے مصیبت میں۔ “ (کیونکہ یہ کافروں کی رسمیں ہیں

صحیح مسلم حدیث ۲۸۸ کا خلاصہ

اس روایت میں بتایا گیا کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بے ہوش ہوئے تو ان کی اہلیہ ام عبداللہ روتی ہوئی چلا رہی تھیں۔ جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے وہ حدیث یاد دلائی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بیزار ہوں اس شخص سے جو بال منڈائے، چلا کر روئے اور کپڑے پھاڑے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ غم میں انسان کو اپنے جذبات کو ایسی شکل نہیں دینی چاہیے جو منع شدہ ہو۔ چلا کر رونا، غم میں بال منڈانا اور کپڑا پھاڑنا ایسے کام ہیں جن سے حدیث میں دور رہنے کی تعلیم دی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مصیبت میں چیخ و پکار سے بچنا چاہیے۔
  • غم کے وقت بال منڈانا پسندیدہ عمل نہیں۔
  • کپڑے پھاڑنا اسلامی صبر کے خلاف ہے۔
  • گھر والوں کو بھی مصیبت میں درست بات یاد دلانی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں