صحیح مسلم حدیث ۲۸۹ - نوحہ کرنے والا ہم میں سے نہیں
نوحہ اور بے صبری کی حدیث: ہم میں سے نہیں کا سخت انداز
صحیح مسلم : ۲۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عِيَاضٍ الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى ، عَنِ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيَاضٍ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : لَيْسَ مِنَّا ، وَلَمْ يَقُلْ : بَرِيءٌ .
ابوموسیٰ روایت:
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت بھی ایسی ہی ہے اس میں یوں ہے: ” ہم میں سے نہیں ہے وہ شخص جو یہ کام کرے۔“ اور یہ نہیں کہا کہ ”بیزار ہوں۔ “
صحیح مسلم حدیث ۲۸۹ کا خلاصہ
اس روایت میں اسی مضمون کو ایک اور لفظ کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔ یہاں بیزاری کے بجائے یہ الفاظ آئے کہ جو یہ کام کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصیبت میں چلا کر رونا، بال منڈانا اور کپڑے پھاڑنا بہت سختی سے منع کیے گئے کام ہیں۔ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ غم کو جاہلیت والی رسموں میں نہ بدلا جائے۔ مسلمان کو غم میں وقار رکھنا چاہیے۔ نوحہ کی ممانعت والی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مصیبت کے وقت جذبات شدید ہوں، پھر بھی انسان کو ایسے کاموں سے بچنا چاہیے جن سے منع کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مصیبت میں ممنوع ماتمی کاموں سے سختی سے روکا گیا ہے۔
- ہم میں سے نہیں کے الفاظ اس عمل کی شدت بتاتے ہیں۔
- غم کو جاہلیت کی رسموں میں بدلنا درست نہیں۔
- صبر کا تقاضا ہے کہ رونے دھونے میں حد سے نہ بڑھا جائے۔
