صحیح مسلم حدیث ۲۹۰ - چغلی کھانے کی سخت وعید
چغلی کھانے کی حدیث: زبان سے فساد نہ پھیلائیں
صحیح مسلم : ۲۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۰
حَدَّثَنِي شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الأَحْدَبُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا يَنُمُّ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ " .
حذیفہ روایت:
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو خبر پہنچی کہ فلاں شخص بات لگا دیتا ہے (یعنی چغلی کھاتا ہے) انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” چغل خور جنت میں نہ جائے گا۔ “
صحیح مسلم حدیث ۲۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ ایک شخص بات لگا دیتا ہے، یعنی چغلی کھاتا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث بیان کی کہ چغل خور جنت میں نہ جائے گا۔ چغلی کی حدیث زبان کے خطرے کو بہت واضح کرتی ہے۔ لوگوں کی باتیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا، خاص طور پر اس طرح کہ فساد پیدا ہو، بہت نقصان دہ عمل ہے۔ اس سے رشتے خراب ہوتے ہیں، دلوں میں بدگمانی آتی ہے اور معاشرے میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ زبان کو خیر کے لیے استعمال کرے، فساد کے لیے نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چغلی کھانا بہت خطرناک عمل ہے۔
- لوگوں کی باتیں فساد کے لیے آگے نہیں پہنچانی چاہییں۔
- زبان سے رشتے ٹوٹ سکتے ہیں، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
- برائی سن کر اسے پھیلانے کے بجائے روکنا بہتر ہے۔
