صحیح مسلم حدیث ۲۹۱ - حاکم تک بات لگانے کی خرابی

حاکم تک بات لگانا: چغلی کی حدیث سے سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۱

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَى الأَمِيرِ ، فَكُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : هَذَا مِمَّنْ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَى الأَمِيرِ ، قَالَ : فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ " .

ہمام بن حارث روایت:

ایک شخص لوگوں کی باتیں حاکم سے بیان کرتا تھا، ایک بار ہم مسجد میں بیٹھے تھے، لوگوں نے کہا: یہ شخص حاکم تک بات کو پہنچاتا ہے، پھر وہ آیا بیٹھا ہمارے پاس، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ” جنت میں نہ جائے گا چغل خور۔ “

صحیح مسلم حدیث ۲۹۱ کا خلاصہ

اس روایت میں ایک شخص کا ذکر ہے جو لوگوں کی باتیں حاکم تک پہنچاتا تھا۔ جب وہ مسجد میں آ کر بیٹھا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی کہ جنت میں چغل خور نہ جائے گا۔ یہاں چغلی صرف عام بات نہیں، بلکہ ایسی بات ہے جو کسی صاحب اختیار تک پہنچا کر لوگوں کے لیے مشکل بنا سکتی ہے۔ چغل خور کی حدیث ہمیں زبان کے استعمال میں بہت محتاط بناتی ہے۔ اگر کوئی بات لوگوں کے درمیان فساد، خوف یا نقصان کا سبب بنے تو اسے آگے بڑھانا درست نہیں۔ مسلمان کو بات جوڑنے والا بننا چاہیے، توڑنے والا نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لوگوں کی باتیں نقصان کے لیے آگے پہنچانا چغلی ہے۔
  • حاکم یا صاحب اختیار تک بات لگا کر فساد نہ کیا جائے۔
  • مسجد جیسے مقام پر بھی زبان کی اصلاح یاد دلائی گئی۔
  • مسلمان کو بات پھیلانے سے پہلے اس کے نقصان کو سوچنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں