صحیح مسلم حدیث ۲۹۲ - چغل خور کو سنانے کی نصیحت
چغل خور کے لیے تنبیہ: جنت میں داخلے کی سخت وعید
صحیح مسلم : ۲۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ حُذَيْفَةَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا ، فَقِيلَ لِحُذَيْفَةَ : إِنَّ هَذَا يَرْفَعُ إِلَى السُّلْطَانِ أَشْيَاءَ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : إِرَادَةَ أَنْ يُسْمِعَهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ " .
ہمام بن حارث روایت:
ہم مسجد میں حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور ہمارے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ لوگوں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ بادشاہ تک بات لگاتا ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کو سنانے کی نیت سے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” جنت میں نہ جائے گا چغل خور۔ “
صحیح مسلم حدیث ۲۹۲ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھے تھے۔ ایک شخص آیا جس کے بارے میں لوگوں نے کہا کہ یہ بادشاہ تک باتیں پہنچاتا ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے سنانے کی نیت سے حدیث بیان کی کہ چغل خور جنت میں نہ جائے گا۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ کبھی نصیحت ایسی بھی کی جاتی ہے کہ متعلقہ شخص سن لے اور اپنی اصلاح کر سکے۔ چغلی کی حدیث صرف دوسروں پر تبصرہ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی زبان کو دیکھنے کے لیے ہے۔ اگر ہماری بات کسی کو نقصان پہنچا سکتی ہے تو اسے روکنا بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نصیحت کبھی نرم انداز میں سنانے کے لیے بھی کی جا سکتی ہے۔
- بادشاہ یا حاکم تک بات لگانا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
- چغلی سے بچنا زبان کی حفاظت کا حصہ ہے۔
- مسلمان کو دوسروں کی باتیں فساد کے لیے استعمال نہیں کرنی چاہییں۔
