صحیح مسلم حدیث ۲۸۸۱ - احرام میں سر منڈانے کا فدیہ
احرام میں سر منڈانے کا فدیہ اور آسان حکم
صحیح مسلم : ۲۸۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۸۱
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَحُمَيْدٍ وَعَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاحْلِقْ رَأْسَكَ ، وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً " ، قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ : أَوِ اذْبَحْ شَاةً .
عبداللہ بن عمر روایت:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی آدمی نے پوچھا کہ محرم کون کون سے جانور قتل کر سکتا ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بی بی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، مارنے کے لئے ارشاد فرماتے تھے کٹ کھنا کتا اور چوہا اور بچھو اور کوا اور سانپ کے اور کہا کہ نماز میں بھی (مارے جائیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۸۱ کا خلاصہ
اس روایت کا اصل موضوع فدیہ احرام ہے۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ حدیبیہ کے وقت احرام میں تھے، سر میں جوؤں کی تکلیف اتنی بڑھ گئی کہ وہ چہرے پر گر رہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تکلیف پوچھی، پھر سر منڈانے کی اجازت دی اور ساتھ فدیہ بھی بتایا۔ فدیہ صیام صدقہ نسک کی صورت میں تھا: تین روزے، چھ مسکینوں کو کھانا، یا قربانی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احرام میں سر منڈانا عام حالت میں نہیں، مگر سر کی اذیت ہو تو حکم کے ساتھ راستہ بتایا گیا۔ یہ حدیث کعب بن عجرہ کی حدیث، احرام کا فدیہ، اور حج کے فدیہ جیسے موضوعات کے لیے اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سر کی واقعی تکلیف ہو تو مسئلہ پوچھ کر درست عمل کیا جائے۔
- احرام کے حکم میں آسانی ہے، مگر فدیہ بھی بیان کیا گیا ہے۔
- فدیہ کی صورتیں روزہ، مسکینوں کو کھانا، یا قربانی کے طور پر آئی ہیں.
