صحیح مسلم حدیث ۲۸۸۲ - جوؤں کی تکلیف اور فدیہ کا حکم
محرم کے لیے جوؤں کی تکلیف میں فدیہ احرام
صحیح مسلم : ۲۸۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۸۲
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ : " آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْلِقْ رَأْسَكَ ، ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا ، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۸۲ کا خلاصہ
یہ حدیث فدیہ احرام کی صاف مثال دیتی ہے۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ حدیبیہ کے زمانے میں احرام کی حالت میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا سر کے کیڑے تمہیں تکلیف دے رہے ہیں۔ انہوں نے ہاں کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈانے کا حکم دیا اور تین آسان صورتیں بتائیں: ایک بکری بطور قربانی، تین دن کے روزے، یا تین صاع کھجور چھ مسکینوں میں تقسیم کرنا۔ اس بیان میں احرام میں سر منڈانا، کعب بن عجرہ کی حدیث، اور فدیہ صیام صدقہ نسک سب ایک ہی مسئلے سے جڑے ہیں۔ بات اتنی ہے کہ تکلیف کے وقت اجازت ہے، مگر حکم کے ساتھ فدیہ بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تکلیف کی حالت میں حکم پوچھنا صحابہ کا طریقہ تھا۔
- سر منڈانے کی اجازت کے ساتھ فدیہ بتایا گیا۔
- فدیہ کے لیے قربانی، روزہ، یا مسکینوں کو کھانا تینوں صورتیں ذکر ہوئیں.
