صحیح مسلم حدیث ۲۸۸۸ - سرمہ کے بجائے صبر کا لیپ

احرام میں سرمہ اور آنکھ کے علاج کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۸۸

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ رَمِدَتْ عَيْنُهُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَكْحُلَهَا ، فَنَهَاهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ " ، وَحَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۸۸۸ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی بات کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ عمر بن عبیداللہ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اور انہوں نے سرمہ لگانے کا ارادہ کیا۔ ابان بن عثمان نے انہیں سرمہ سے روکا اور صبر کا لیپ کرنے کو کہا۔ پھر انہوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تھا۔ اس حدیث میں محرم کی آنکھ کا علاج، احرام میں سرمہ، اور صبر کا لیپ جیسے الفاظ قدرتی طور پر آتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ متن میں منع اور متبادل دونوں ساتھ آئے: سرمہ نہ لگانا، بلکہ صبر کا لیپ کرنا۔ اسی لیے اس روایت سے صرف یہی محتاط بات اخذ کی جا سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • متن میں سرمہ لگانے سے روکا گیا ہے۔
  • آنکھ کی تکلیف کے لیے صبر کا لیپ بتایا گیا۔
  • احرام میں علاج کے مسئلے میں روایت کے الفاظ کی پابندی ضروری ہے.

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں