صحیح مسلم حدیث ۲۸۸۷ - احرام میں آنکھ کے علاج کی اجازت
احرام میں آنکھ کا علاج اور صبر کا لیپ
صحیح مسلم : ۲۸۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۸۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَلَلٍ ، اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَيْنَيْهِ ، فَلَمَّا كُنَّا بِالرَّوْحَاءِ اشْتَدَّ وَجَعُهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَسْأَلُهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنِ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ ، فَإِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الرَّجُلِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ " .
کعب بن عجرہ روایت:
میرے پاس آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال حدیبیہ میں اور میں اپنی ہانڈی کے نیچے آگ پھونک رہا تھا اور جوئیں میرے منہ پر چلی آتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے سر کے کیڑوں نے بہت ستایا ہے۔“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سر منڈا دو اور تین روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا ایک قربانی کرو۔“ ایوب نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ پہلے کیا چیز فرمائی۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۸۷ کا خلاصہ
اس روایت میں احرام کے دوران آنکھ کی تکلیف کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ نبیہ بن وہب کے بیان کے مطابق عمر بن عبیداللہ کی آنکھیں دکھنے لگیں، درد بڑھا تو ابان بن عثمان سے پوچھا گیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ آنکھوں پر صبر کا لیپ کیا جائے، اور اس کی نسبت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بیان کی۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع محرم کی آنکھ کا علاج ہے۔ احرام میں سرمہ، آنکھ کا درد، صبر کا لیپ، اور احرام میں آنکھ کا علاج جیسے الفاظ اس روایت کے لیے متعلق ہیں۔ متن میں سرمہ لگانے کا حکم نہیں بلکہ صبر کے لیپ کا ذکر آیا ہے، اس فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام میں آنکھ کی تکلیف پر شرعی رہنمائی لی گئی۔
- اس روایت میں صبر کے لیپ کا ذکر ہے، سرمہ کا نہیں۔
- مسئلہ پوچھنے کے بعد علاج کا طریقہ بتایا گیا.
