صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۰ - احرام میں پورے سر پر ہاتھ پھیرنا
احرام میں غسل اور پورے سر پر ہاتھ پھیرنے کا طریقہ
صحیح مسلم : ۲۸۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۹۰
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : فَأَمَرَّ أَبُو أَيُّوبَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ جَمِيعًا عَلَى جَمِيعِ رَأْسِهِ ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : لَا أُمَارِيكَ أَبَدًا .
کعب بن عجرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کھڑے تھے اور میرے سر میں سے جو ئیں گر رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو جو ئیں ستاتی ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈا ڈالو۔“ اور یہ آیت «فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ» میرے حق میں اتری پھر مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین روزے رکھو یا ایک ٹوکرا خیرات دو یعنی غلہ بھر کر چھ مساکین کو یا قربانی کرو جو میسر ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۰ کا خلاصہ
یہ روایت احرام میں سر دھونے کے مسئلے کی مزید وضاحت کرتی ہے۔ اسی واقعہ میں ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ پورے سر پر پھیرے، آگے بھی لے گئے اور پیچھے بھی۔ پھر مسور رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ اب میں آپ سے بحث نہیں کروں گا۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف نظری بحث نہیں رہا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی گواہی سے بات واضح ہوئی۔ اس حدیث کے لیے احرام میں سر دھونا، محرم کا غسل، ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت، اور احرام میں غسل جیسے الفاظ اہم ہیں۔ روایت میں جو طریقہ آیا ہے، وضاحت بھی اسی کے اندر رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سنت کی گواہی ملنے پر بحث ختم کر دی گئی۔
- سر دھوتے وقت پورے سر پر ہاتھ پھیرنے کا ذکر آیا ہے۔
- مسئلہ سمجھانے کے لیے عملی طریقہ دکھایا گیا.
