صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۱ - احرام میں وفات پانے والے کا کفن
احرام میں وفات: محرم کے غسل اور کفن کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۸۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۹۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ ، فَقَالَ : اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
کعب روایت:
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے وہی مضمون اوپر کا بیان کر کے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈا ڈالو اور ایک ٹوکرا غلہ چھ مسکینوں کو بانٹ دو (اور ٹوکرا تین صاع ہے اور صاع کی تحقیق کتاب الزکوٰۃ میں گزری) یا تین دن روزے رکھو یا ایک قربانی کرو ابن ابی نجیح کی روایت میں ہے کہ”ایک بکری ذبح کرو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۱ کا خلاصہ
اس روایت میں ایک شخص کا واقعہ ہے جو احرام کی حالت میں سواری سے گرا، زخمی ہوا اور فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے، اسی کے دو کپڑوں میں کفن دیا جائے، اور اس کا سر نہ ڈھانکا جائے۔ وجہ بھی بیان ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے اٹھائے گا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع محرم کا جنازہ ہے۔ احرام میں وفات، محرم کا کفن، غسل میت محرم، اور قیامت کے دن تلبیہ جیسے الفاظ اسی روایت سے متعلق ہیں۔ متن میں جو حکم آیا ہے، وہ اسی خاص حالت یعنی احرام میں وفات کے بارے میں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام میں فوت ہونے والے کے غسل کا حکم پانی اور بیری کے ساتھ آیا ہے۔
- کفن کے لیے اسی کے دو کپڑوں کا ذکر ہے۔
- سر نہ ڈھانکنے کی وجہ قیامت کے دن تلبیہ کے ساتھ اٹھایا جانا بیان ہوئی.
