صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۲ - محرم میت کو خوشبو نہ لگانا
عرفات میں محرم کی وفات اور جنازے کا حکم
صحیح مسلم : ۲۸۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۹۲
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ ، قَالَ أَيُّوبُ : فَأَوْقَصَتْهُ ، أَوَ قَالَ : فَأَقْعَصَتْهُ ، وَقَالَ عَمْرٌو : فَوَقَصَتْهُ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ " ، قَالَ أَيُّوبُ : " فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " ، وَقَالَ عَمْرٌو : " فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " ،
کعب روایت:
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے وہی مضمون اوپر کا بیان کر کے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈا ڈالو اور ایک ٹوکرا غلہ چھ مسکینوں کو بانٹ دو۔“ اور ٹوکرا تین صاع کا ہے (اور صاع کی تحقیق کتاب الزکوٰۃ میں گزری ہے) یا تین روزے رکھو یا ایک قربانی کرو (ابن ابی نجیح کی روایت میں ہے کہ ایک بکری ذبح کرو)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۲ کا خلاصہ
یہ روایت بھی احرام میں وفات کے مسئلے کو بیان کرتی ہے۔ ایک شخص عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا تھا، پھر اپنی سواری سے گرا اور فوت ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دو، دو کپڑوں میں کفن دو، اسے خوشبو نہ لگاؤ اور سر نہ ڈھانکو۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے اٹھائے گا۔ اس لیے محرم کا جنازہ، احرام میں وفات، محرم کا کفن، اور حج میں وفات کی حدیث اس حدیث کے مرکزی سرچ الفاظ ہیں۔ یہاں اصل سبق میت کے ساتھ احرام کی حالت کا لحاظ رکھنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محرم میت کو غسل اور کفن دیا جائے گا۔
- اس روایت میں خوشبو نہ لگانے کا حکم آیا ہے۔
- سر نہ ڈھانکنے کی وجہ تلبیہ کے ساتھ اٹھائے جانا بیان ہوئی.
