صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۳ - محرم کی میت کا خاص حکم
محرم کی میت: سر نہ ڈھانکنے اور خوشبو نہ لگانے کی روایت
صحیح مسلم : ۲۸۹۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۹۳
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : نُبِّئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَذَكَرَ نَحْوَ مَا ذَكَرَ حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ .
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے پاس عبداللہ بن معقل بیٹھے اور کعب مسجد میں تھے اور یہ آیت بیان کی «فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ» (۲/البقرۃ: ۱۹۶) تو کہا: یہ میرے لیے اتری ہے، پھر سارا قصہ بیان کیا جو کئی بار گزرا آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے تین دن کے یا کھانا چھ مسکینوں کا ہر مسکین کو نصف صاع۔“ پھر کہا کعب نے یہ آیت اتری ہے خاص میرے لیے اور (باعتبار لفظ کے) عام ہے تم سب کے لیے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۳ کا خلاصہ
اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہی واقعہ اجمالی طور پر بیان ہوا ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھا، پھر سواری کے حادثے سے فوت ہو گیا۔ حدیث کا زور اس بات پر ہے کہ محرم کی حالت کا لحاظ موت کے بعد بھی کیا گیا: اسے پانی اور بیری سے غسل دیا جائے، کفن دیا جائے، مگر خوشبو نہ لگائی جائے اور سر نہ ڈھانکا جائے۔ اس کے ساتھ تلبیہ کے ساتھ اٹھائے جانے کا ذکر آتا ہے۔ تلاش کے لحاظ سے احرام میں وفات، محرم کا جنازہ، محرم کی میت، اور حج میں فوت ہونے والے کی حدیث اس روایت کے قریب ترین الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محرم کی میت کے ساتھ احرام کی حالت کا لحاظ رکھا گیا۔
- خوشبو اور سر ڈھانکنے سے روکنے کا حکم متن میں آیا ہے۔
- قیامت کے دن تلبیہ کے ساتھ اٹھائے جانے کا ذکر اس روایت میں مرکزی ہے.
