صحیح بخاری حدیث ۱۲۶۷ - محرم کو خوشبو نہ لگانے کی حدیث
محرم میت کا حکم: غسل، کفن اور خوشبو سے پرہیز
صحیح بخاری : ۱۲۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۶۷
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، " أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھے کہ ایک شخص کی گردن اس کے اونٹ نے توڑ ڈالی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے دو اور کپڑوں کا کفن دو اور خوشبو نہ لگاؤ نہ ان کے سر کو ڈھکو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اٹھائے گا۔ اس حالت میں کہ وہ لبیک پکارتا ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص احرام کی حالت میں تھا اور اس کے اونٹ نے اس کی گردن توڑ دی۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، دو کپڑوں میں کفن دو، خوشبو نہ لگاؤ اور اس کا سر نہ ڈھانپو۔ پھر وجہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اسی حالت میں اٹھائے گا کہ وہ لبیک پکار رہا ہو گا۔ اس روایت میں محرم کی میت کی تیاری کا خاص طریقہ بتایا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں خوشبو سے روکنے اور سر نہ ڈھانپنے کی بات صاف ہے۔ اس لیے اس سے بڑھ کر کوئی نئی شرط یا تفصیل متن سے ثابت نہیں کی جا سکتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محرم کی میت کو بیری ملے پانی سے غسل دیا جائے۔
- دو کپڑوں میں کفن دینے کا ذکر اس روایت میں ہے۔
- خوشبو نہ لگانے اور سر نہ ڈھانپنے کی صراحت آئی ہے۔
- حدیث میں تلبیہ کے ساتھ اٹھائے جانے کا بیان ہے۔
