صحیح مسلم حدیث ۲۷۸۵ - اعتکاف میں اخلاص اور نظم
اعتکاف کا ارادہ، خیمے اور اخلاص کا سبق
صحیح مسلم : ۲۷۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۸۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ مُعْتَكَفَهُ ، وَإِنَّهُ أَمَرَ بِخِبَائِهِ فَضُرِبَ ، أَرَادَ الِاعْتِكَافَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَأَمَرَتْ زَيْنَبُ بِخِبَائِهَا فَضُرِبَ ، وَأَمَرَ غَيْرُهَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخِبَائِهِ فَضُرِبَ ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ ، نَظَرَ فَإِذَا الْأَخْبِيَةُ ، فَقَالَ : آلْبِرَّ تُرِدْنَ فَأَمَرَ بِخِبَائِهِ فَقُوِّضَ ، وَتَرَكَ الِاعْتِكَافَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، حَتَّى اعْتَكَفَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَّلِ مِنْ شَوَّالٍ " ،
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ارادہ کرتے اعتکاف کا تو صبح کی نماز پڑھ کر اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو جاتے اور ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا اپنا خیمہ لگانے کا یعنی مسجد میں اور وہ لگا دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشرہ اخیر میں ارادہ کیا رمضان کے۔ پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا ان کا بھی خیمہ لگا دیا اور بیبیوں رضی اللہ عنہن نے کہا: ان کے بھی خیمے لگا دئیے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ چکے تو سب خیموں کو دیکھا اور فرمایا: ”ان لوگوں نے کیا نیکی کا ارادہ کیا ہے؟“ (اس میں یعنی بوئے ریا پائی جاتی ہے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمہ کا حکم دیا کہ کھول ڈالا جائے اور اعتکاف ترک کیا رمضان میں یہاں تک کہ پھر عشرہ اول میں شوال کے اعتکاف کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۷۸۵ کا خلاصہ
یہ حدیث اعتکاف کے ایک خاص واقعہ کو بیان کرتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو فجر کی نماز پڑھ کر اپنی اعتکاف کی جگہ میں داخل ہوتے۔ ایک مرتبہ آپ صلى الله عليه وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کا ارادہ فرمایا اور مسجد میں خیمہ لگایا گیا۔ پھر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے خیمے بھی لگا دیے گئے۔ فجر کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے خیمے دیکھے اور فرمایا کہ کیا یہ نیکی چاہتی ہیں؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنا خیمہ کھولنے کا حکم دیا اور اس رمضان میں اعتکاف چھوڑ دیا، بعد میں شوال کے پہلے عشرہ میں اعتکاف فرمایا۔ اس حدیث کا اہم پیغام اعتکاف، اخلاص، اور عبادت میں صاف نیت سے متعلق ہے۔ یہاں جو بات بیان ہوئی ہے اسی حد تک رہنا چاہیے؛ حدیث صرف اس واقعہ کو بیان کرتی ہے، ہر شخص کے بارے میں کوئی عام حکم نہیں لگاتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم اعتکاف کے ارادے پر فجر کے بعد اپنی جگہ میں داخل ہوتے تھے۔
- عبادت میں نیت اور انداز دونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے رمضان کا اعتکاف مؤخر کر کے شوال کے پہلے عشرہ میں اعتکاف فرمایا۔
