صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۴ - احرام میں مرنے والے کو تلبیہ کے ساتھ اٹھایا جائے گا
احرام میں موت اور قیامت کے دن تلبیہ
صحیح مسلم : ۲۸۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۹۴
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَّ مِنْ بَعِيرِهِ ، فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " ،
اس حد یث کا ترجمہ و مفہوم کچھ کمی و بیشی کے ساتھ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک محرم شخص کا ذکر ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہا تھا، پھر اونٹ سے گرا اور فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دو، اس کے کپڑے پہناؤ، اور اس کا سر نہ ڈھانکو۔ پھر بتایا کہ وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا آئے گا۔ اس روایت کا بنیادی موضوع احرام میں وفات اور محرم کا کفن ہے۔ حج میں وفات، احرام میں موت، اور قیامت کے دن تلبیہ جیسے سرچ الفاظ اسی بات کی طرف لے جاتے ہیں۔ متن میں چہرے یا خوشبو کی تفصیل اس روایت کے الفاظ میں نہیں، اس لیے وضاحت اسی بیان تک محدود رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام میں وفات پانے والے کو پانی اور بیری سے غسل دینے کا حکم آیا ہے۔
- اس روایت میں سر نہ ڈھانکنے کا حکم خاص طور پر بیان ہوا ہے۔
- قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے آنے کا ذکر امید افزا مگر متن تک محدود بیان ہے.
