صحیح مسلم حدیث ۲۹۰۱ - احرام میں وفات پانے والے کا حکم
احرام میں وفات کی حدیث: محرم میت کے اہم احکام
صحیح مسلم : ۲۹۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۰۱
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا ، وَلَا تُغَطُّوا وَجْهَهُ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُلَبِّي " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع احرام میں وفات ہے۔ روایت میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس کی اونٹنی نے اسے گرا دیا اور وہ فوت ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے غسل دو، خوشبو نہ لگاؤ، اور اس کا چہرہ نہ ڈھانپو، کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ اس سے ہمیں محرم میت کے بارے میں ایک خاص ہدایت ملتی ہے۔ عام طور پر میت کو خوشبو لگائی جاتی ہے، مگر یہاں احرام کی حالت باقی رکھی گئی۔ حج کی حدیث میں یہ بات صاف آتی ہے کہ جس عبادت کی حالت میں آدمی وفات پائے، اس کے ساتھ اسی حالت کا لحاظ رکھا جائے۔ یہ بات احرام، لبیک، حج کے آداب اور محرم کے حکم کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام کی حالت میں وفات پانے والے کے ساتھ احرام کے بعض احکام باقی رکھے گئے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشبو لگانے اور چہرہ ڈھانپنے سے منع فرمایا۔
- حدیث میں بتایا گیا کہ وہ شخص قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔
- میت کے معاملے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی ہدایت پر عمل ضروری ہے۔
