صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۸ - محرم میت کے سر کو نہ ڈھانپنا

احرام والی میت کے لیے غسل اور سر نہ ڈھانپنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۹۸

وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَلَا يُمَسَّ طِيبًا ، وَلَا يُخَمَّرَ رَأْسُهُ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا " .

نبیہ روایت:

عمر بن عبید اللہ کی آنکھیں دکھیں اور سرمہ لگانا چاہا تو ابان نے منع کیا اور صبر کے لگانے کو بتایا اور روایت کی سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۸ کا خلاصہ

یہ روایت اسی واقعہ کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ ایک شخص احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس کا اونٹ اسے گرا گیا اور وہ فوت ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دیا جائے، اسے خوشبو نہ لگائی جائے، اور اس کا سر نہ ڈھانپا جائے۔ پھر بتایا گیا کہ وہ قیامت کے دن تلبیہ کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ یہ حدیث احرام والی میت، محرم کا جنازہ، احرام میں وفات، اور قیامت کے دن تلبیہ جیسے الفاظ کے لیے بہت متعلق ہے۔ متن میں کفن کی تفصیل اس روایت میں کم ہے، اس لیے بیان بھی مختصر اور اسی حد میں رکھا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غسل کے لیے پانی اور بیری کا ذکر آیا ہے۔
  • محرم میت کو خوشبو لگانے سے روکا گیا ہے۔
  • سر نہ ڈھانپنے کی وجہ قیامت کے دن تلبیہ کے ساتھ اٹھنا بیان ہوئی.

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں