صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۷ - محرم میت کو خوشبو نہ لگانے کی تاکید
محرم میت کو خوشبو نہ لگانے اور سر نہ ڈھانکنے کا حکم
صحیح مسلم : ۲۸۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۹۷
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا ، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ ، وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا " .
وہب کے بیٹے نبیہ روایت:
ہم نکلے ابان بن عثمان کے ساتھ اور جب ملل میں پہنچے(نام ہے ایک موضع کا کہ مدینہ سے اٹھائیس میل ہے مکہ کی راہ میں) تو عمر بن عبیداللہ کی آنکھیں دکھنے لگیں پھر جب روحاء میں آئے بہت درد ہوا تو ابان بن عثمان سے کہلا بھیجا انہوں نے کہا کہ ایلوے کا لیپ کرو اس لیے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جب مرد کی آنکھیں دکھنے لگیں اور وہ احرام باندھے ہوئے ہو تو آپ نے فرمایا کہ ان پر ایلوے کا لیپ کر لے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک محرم آدمی کا واقعہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، پھر اس کی اونٹنی نے اسے گرا دیا اور وہ فوت ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دیا جائے، اسی کے دو کپڑوں میں کفن دیا جائے، اسے خوشبو نہ لگائی جائے، اور اس کا سر نہ ڈھانکا جائے۔ روایت میں قیامت کے دن اس کے تلبیہ کے ساتھ اٹھنے کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس موضوع کے لیے احرام میں وفات، محرم کو خوشبو نہ لگانا، محرم کا جنازہ، اور حج میں وفات کی حدیث اہم سرچ الفاظ ہیں۔ یہاں حدیث کے الفاظ خوشبو اور سر دونوں پر واضح ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محرم میت کو خوشبو نہ لگانے کا حکم آیا ہے۔
- کفن کے لیے اسی کے کپڑوں کا ذکر ہے۔
- سر نہ ڈھانکنے کی وجہ تلبیہ کے ساتھ اٹھایا جانا بیان ہوئی.
