صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۶ - سر اور چہرہ نہ ڈھانکنے کا حکم
محرم میت کا سر اور چہرہ نہ ڈھانکنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۸۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۹۶
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلًا أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
ابن بحینہ روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگائے مکہ کی راہ میں اپنے سر کے بیچ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام سے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۹۶ کا خلاصہ
یہ روایت احرام میں فوت ہونے والے شخص کے بارے میں ایک اہم لفظی اضافہ لاتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کی سواری نے اسے گرا دیا اور وہ محرم ہونے کی حالت میں فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دو، اسی کے دو کپڑوں میں کفن دو، اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانکو، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ اس لیے محرم میت کا چہرہ، احرام میں وفات، چہرہ نہ ڈھانکنے کا حکم، اور تلبیہ والی حدیث جیسے الفاظ اس روایت سے جڑے ہیں۔ متن میں سر اور چہرہ دونوں کا ذکر خاص طور پر محفوظ رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں سر کے ساتھ چہرہ نہ ڈھانکنے کا بھی ذکر ہے۔
- غسل پانی اور بیری سے دینے کا حکم آیا ہے۔
- قیامت کے دن تلبیہ کے ساتھ اٹھائے جانے کی وجہ بیان ہوئی ہے.
