صحیح مسلم حدیث ۲۹۰۷ - حج کرو اور شرط کرو
حج کرو اور شرط کرو: احرام کی شرط والی مشہور حدیث
صحیح مسلم : ۲۹۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۰۷
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي مَعْروفٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِضُبَاعَةَ : " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي " ، وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاق : أَمَرَ ضُبَاعَةَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا لیکن اسحاق کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ کو حکم دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: حج کرو اور شرط لگاؤ کہ میرا احرام کھولنا وہیں ہے جہاں تو مجھے روک دے۔ ایک روایت میں یہ بھی آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ کو حکم دیا۔ اس حدیث کا موضوع حج میں شرط لگانے کی دعا ہے۔ یہ الفاظ ایک ایسے حاجی کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں جسے بیماری، کمزوری یا کسی رکاوٹ کا ڈر ہو۔ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ لمبی بحث کی، نہ مشکل الفاظ استعمال کیے، بلکہ صاف ہدایت دی کہ حج کرو اور شرط کر لو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج اور عمرہ کے مسائل میں ضرورت کے وقت شریعت آسانی دیتی ہے، مگر وہ آسانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی صورت کے مطابق ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ رضی اللہ عنہا کو حج کرنے اور شرط لگانے کا حکم دیا۔
- احرام کی شرط کے الفاظ مختصر اور واضح ہیں۔
- بیماری یا رکاوٹ کے اندیشے میں شرعی آسانی موجود ہے۔
- حج کے مسائل میں نبوی الفاظ کو یاد رکھنا فائدہ مند ہے۔
