صحیح مسلم حدیث ۲۹۲۸ - دو عبادتوں کے ساتھ واپسی کی حدیث
لوگ دو عبادتوں کے ساتھ لوٹتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت
صحیح مسلم : ۲۹۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۲۸
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، وَإِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : لَا أَعْرِفُ حَدِيثَ أَحَدِهِمَا مِنَ الْآخَرِ ، أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
ابن عون روایت:
ان دونوں کی حدیث مجھ پر خلط ملط ہو گئی حدیث یہ ہے کہ بے شک ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! لوگ لوٹتے ہیں دو عبادتوں کے ساتھ آگے وہی حدیث ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۲۸ کا خلاصہ
یہ روایت ابن عون کے بیان سے آئی ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ دونوں راویوں کی حدیث ان پر خلط ملط ہو گئی، مگر اصل مضمون یہ ہے کہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لوگ دو عبادتوں کے ساتھ واپس جا رہے ہیں۔ آگے وہی مضمون ہے جس میں پاک ہونے کے بعد تنعیم جا کر عمرہ کا احرام باندھنے کی بات آتی ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع تنعیم سے عمرہ اور حج کے ساتھ عمرہ کی خواہش ہے۔ چونکہ متن میں راوی نے خلط ملط ہونے کا ذکر کیا ہے، اس لیے بیان میں احتیاط ضروری ہے۔ اس روایت سے اتنا سمجھا جاتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دل کی بات رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے رکھی، اور پھر عمرہ کے لیے رہنمائی ملی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- راوی نے اپنے بیان میں جہاں خلط کا اندیشہ تھا، اسے صاف بیان کیا۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دو عبادتوں کے ساتھ واپسی کا مسئلہ پیش کیا۔
- اس روایت کا تعلق تنعیم سے عمرہ کے مضمون سے ہے۔
- حدیث نقل کرتے وقت احتیاط اور دیانت اہم ہے۔
