صحیح مسلم حدیث ۲۹۴ - دے کر احسان نہ جتاؤ
دے کر احسان جتانا: حدیث کی سخت تنبیہ
صحیح مسلم : ۲۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۴
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، الْمَنَّانُ الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ بات نہ کرے گا قیامت کے روز، ایک احسان جتانے والا جو دے کر احسان جتا دے، دوسرے اپنا مال چلانے والا جھوٹی قسم کھا کر، تیسرے ازار لٹکانے والا۔ “
صحیح مسلم حدیث ۲۹۴ کا خلاصہ
اس روایت میں تین آدمیوں کا ذکر ہے جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا۔ ایک وہ جو دے کر احسان جتاتا ہے، دوسرا جو جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال چلاتا ہے، اور تیسرا ازار لٹکانے والا۔ حدیث میں احسان جتانے کا ذکر خاص طور پر ہمیں اپنے رویے کو دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ اگر کسی کو کچھ دیا جائے تو اسے بار بار یاد دلا کر تکلیف نہ دی جائے۔ جھوٹی قسم سے چیز بیچنا بھی اعتماد توڑتا ہے۔ ازار لٹکانے کا ذکر بھی اس روایت میں سخت وعید کے ساتھ آیا ہے۔ یہ سب کام انسان کے اخلاق اور معاملے کو خراب کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دے کر احسان جتانا نیکی کے حسن کو خراب کرتا ہے۔
- جھوٹی قسم سے مال بیچنا سخت وعید والا عمل ہے۔
- حدیث میں ازار لٹکانے کو بھی تنبیہ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
- اللہ کے سامنے جواب دہی کا خیال معاملات کو درست رکھتا ہے۔
