صحیح مسلم حدیث ۲۹۵ - قیامت کے دن سخت محرومی

تین لوگوں کے لیے سخت وعید: اللہ نہ بات کرے گا نہ نظر فرمائے گا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۵

وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ " .

‏‏‏‏ اس روایت میں ہے کہ ” تین آدمیوں سے اللہ بات نہ کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ کا عذاب ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۹۵ کا خلاصہ

اس روایت میں اصل وعید کے الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ تین آدمیوں سے اللہ بات نہ کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دکھ کا عذاب ہے۔ اگرچہ اس مختصر روایت میں ان تین لوگوں کی تفصیل نہیں آئی، مگر پچھلی روایتوں کے ساتھ یہی مضمون احسان جتانے، جھوٹی قسم سے مال بیچنے اور ازار لٹکانے جیسے کاموں سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں ہمیں اس وعید کی شدت پر غور کرنا چاہیے۔ قیامت کے دن اللہ کی رحمت، نظر اور پاک کیے جانے سے محرومی بہت بڑی بات ہے۔ اس لیے ایسے اعمال سے بچنا چاہیے جن پر یہ سخت تنبیہ آئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں تین لوگوں کے لیے بہت سخت وعید بیان ہوئی ہے۔
  • اللہ کی رحمت والی نظر سے محرومی معمولی بات نہیں۔
  • انسان کو اپنے ظاہری اور معاملاتی اعمال پر نظر رکھنی چاہیے۔
  • سخت وعید سن کر اپنے عمل کی اصلاح کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں