صحیح مسلم حدیث ۲۹۶ - بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ، محتاج مغرور
بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ اور محتاج مغرور: حدیث کی تنبیہ
صحیح مسلم : ۲۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۶
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : " وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، شَيْخٌ زَانٍ ، وَمَلِكٌ كَذَّابٌ ، وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں سے اللہ بات نہ کرے گا قیامت کے روز، نہ ان کو پاک کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور ان کو دکھ کا عذاب ہے۔ ایک تو بوڑھا زنا کرنے والا، دوسرے بادشاہ جھوٹا، تیسرے محتاج مغرور۔ “
صحیح مسلم حدیث ۲۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین لوگوں کا ذکر فرمایا جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور ان کے لیے دکھ کا عذاب ہے۔ وہ تین ہیں: بوڑھا زنا کرنے والا، جھوٹا بادشاہ، اور محتاج ہونے کے باوجود تکبر کرنے والا۔ اس حدیث میں ہر عمل کی خرابی واضح ہے۔ بڑھاپے میں گناہ پر اصرار، طاقت اور منصب کے ساتھ جھوٹ، اور محتاجی کے باوجود غرور، یہ تینوں دل کی خرابی کو ظاہر کرتے ہیں۔ جھوٹا بادشاہ اور مغرور محتاج والی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، سچائی، حیا اور عاجزی نہیں چھوڑنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بڑھاپے میں بھی گناہ سے بچنا ضروری ہے۔
- حکومت یا اختیار کے ساتھ جھوٹ بولنا بہت خطرناک ہے۔
- محتاجی کے باوجود تکبر کرنا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
- اللہ کے سامنے عاجزی، حیا اور سچائی اختیار کرنی چاہیے۔
