صحیح مسلم حدیث ۲۹۶۵ - تمتع حج صحابہ کے لیے خاص

تمتع حج کی حدیث: صحابہ کے لیے خاص ہونے کا قول

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۶۵

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً " .

ابوذر روایت:

تمتع حج کا خاص تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے لیے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۹۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع تمتع حج ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حج میں متعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے خاص تھا۔ متن بہت مختصر ہے، اس لیے اس میں وہی بات سمجھنی چاہیے جو الفاظ سے صاف نکلتی ہے۔ یہاں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ اپنا قول بیان کر رہے ہیں کہ یہ رخصت یا صورت صحابہ کے ساتھ خاص تھی۔ اس روایت میں حج تمتع کی حدیث، متعہ حج اور صحابہ کا خاص عمل جیسے الفاظ تلاش کرنے والے قاری کو اصل عبارت ملتی ہے۔ چونکہ حدیث میں تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس سے آگے بڑھ کر کوئی لمبی فقہی بحث اس متن سے براہ راست ثابت نہیں کی جا سکتی۔ آسان الفاظ میں، یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ صحابہ کے درمیان اس مسئلے کی تعبیر میں خاص پن کا پہلو بھی بیان ہوا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے تمتع حج کو صحابہ کے لیے خاص بتایا۔
  • مختصر روایت سے اتنی ہی بات لی جائے جتنی اس میں صاف بیان ہوئی ہے۔
  • حج تمتع کے مسئلے میں صحابہ کے مختلف اقوال بھی نقل ہوئے ہیں۔
  • دینی متن پڑھتے وقت الفاظ کی حد کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں