صحیح مسلم حدیث ۲۹۶۴ - حج اور عمرہ کا ایک ساتھ تلبیہ

حج تمتع اور حج و عمرہ کا تلبیہ: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا عمل

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۶۴

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رضي الله عنهما بعسفان ، فكان عثمان ينهى عَنِ الْمُتْعَةِ أَوِ الْعُمْرَةِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : " مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهُ " ، فَقَالَ عُثْمَانُ : " دَعْنَا مِنْكَ " ، فَقَالَ : " إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدَعَكَ " ، فَلَمَّا أَنْ رَأَى عَلِيٌّ ذَلِكَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا .

سعید بن مسیب روایت:

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دونوں عسفان (کہ نام ہے ایک مقام کا) میں جمع ہوئے اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ متعہ سے منع کرتے تھے (یعنی ایام حج میں کہ وہ تمتع ہے) تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ارادہ ہے تمہارا اس کام کے ساتھ جو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور تم اس سے منع کرتے ہو؟ تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ہمیں چھوڑ دو ہمارے حال پر۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا۔ پھر جب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے یہ حال دیکھا تو حج اور عمرہ دونوں کا لبیک پکارا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۹۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا واقعہ عسفان میں بیان ہوا ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ متعہ یا عمرہ سے منع کرتے تھے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ آپ اس کام سے کیوں روکتے ہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیں، مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ پھر جب انہوں نے یہ صورت دیکھی تو حج اور عمرہ دونوں کا لبیک پکارا۔ اس روایت میں حج تمتع، عمرہ اور حج کو جمع کرنا، اور سنت کے عمل کو دلیل بنانا واضح طور پر موجود ہے۔ متن سے جو بات نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صرف بحث نہیں کی بلکہ اپنے عمل سے بھی اپنا موقف ظاہر کیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دینی مسئلے میں مضبوط دلیل ہے۔
  • اختلاف کے وقت دلیل کے ساتھ بات کرنا صحابہ کا طریق تھا۔
  • سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکار کر اپنا موقف ظاہر کیا۔
  • متن میں جو واقعہ بیان ہوا ہے، اسی حد تک بات رکھنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں