صحیح مسلم حدیث ۲۹۶۷ - دو متعوں کا ذکر
دو متعوں کی حدیث: متعہ النساء اور متعہ حج کا ذکر
صحیح مسلم : ۲۹۶۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۶۷
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " لَا تَصْلُحُ الْمُتْعَتَانِ ، إِلَّا لَنَا خَاصَّةً " يَعْنِي : مُتْعَةَ النِّسَاءِ وَمُتْعَةَ الْحَجِّ .
ابوذر روایت:
دو متعے ایسے ہیں کہ ہمارے لیے خاص تھے۔ یعنی متعہ عورتوں کا یعنی نکاح کرنا ایک وقت مقررہ تک اور متعہ حج کا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو متعے ہمارے لیے خاص تھے۔ متن میں وضاحت بھی ہے کہ اس سے مراد متعہ النساء، یعنی ایک مقرر وقت تک نکاح، اور متعہ حج ہے۔ اس روایت کا انداز بہت مختصر ہے، اس لیے اس سے وہی بات لی جائے گی جو صاف الفاظ میں موجود ہے۔ یہاں دو الگ چیزوں کا نام آیا ہے، لیکن اس جگہ تفصیلی احکام بیان نہیں کیے گئے۔ اس لیے عام قاری کو سمجھنا چاہیے کہ یہ حدیث “دو متعے”، “متعہ حج” اور “متعہ النساء” کے الفاظ کے ذکر کے لیے اہم ہے، مگر ہر ایک کے مکمل حکم کی تفصیل اس ایک مختصر روایت میں نہیں آئی۔ متن میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے خاص ہونے کا پہلو بیان کیا، اسی کو اصل مضمون سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں دو متعوں کا نام لے کر ذکر کیا گیا ہے۔
- متعہ حج اور متعہ النساء کو ایک ہی جملے میں الگ الگ پہچانا گیا۔
- مختصر روایت سے مکمل تفصیلی حکم خود نہ گھڑنا چاہیے۔
- سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو اپنے لیے خاص بتایا۔
