صحیح مسلم حدیث ۲۹۷۲ - عشرہ ذی الحجہ میں عمرہ
عشرہ ذی الحجہ میں عمرہ: حج تمتع کے باب کی اہم حدیث
صحیح مسلم : ۲۹۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۷۲
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " إِنِّي لَأُحَدِّثُكَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ ، وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ ، فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِكَ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ ، ارْتَأَى كُلُّ امْرِئٍ بَعْدُ مَا شَاءَ أَنْ يَرْتَئِيَ " ،
عمران بن حصین روایت:
میں تم سے آج ایک حدیث بیان کروں کہ اللہ تعالیٰ تم کو آج کے بعد اس کا نفع دے اور جان لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھروالوں سے ایک گروہ کو عمرہ کروایا عشرہ ذی الحجہ میں اور پھر اس پر کوئی آیت نہ اتری کہ اس کو منسوخ کرتی اور نہ ان دونوں میں عمرہ سے منع فرمایا یہاں تک کہ دنیا سے چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس کا جو جی چاہے، اپنی رائے سے کہا کرے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ مطرف سے کہتے ہیں کہ میں تم سے ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جس سے اللہ تمہیں نفع دے۔ پھر وہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں سے ایک گروہ کو عشرہ ذی الحجہ میں عمرہ کروایا۔ اس کے بعد کوئی آیت نازل نہیں ہوئی جو اسے منسوخ کرے، اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔ پھر آپ کے بعد جس نے جو چاہا اپنی رائے سے کہا۔ اس روایت کا مرکزی موضوع حج تمتع، عشرہ ذی الحجہ میں عمرہ، اور نص کے مقابلے میں رائے کا ذکر ہے۔ متن کا زور اس بات پر ہے کہ ایک عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا، پھر اس کے خلاف قرآن یا نبوی ممانعت کا ذکر نہیں آیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشرہ ذی الحجہ میں اپنے گھر والوں میں سے بعض کو عمرہ کروایا۔
- حدیث کے الفاظ میں اس عمل کی منسوخی کا ذکر نہیں آیا۔
- سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو نفع بخش بات کے طور پر بیان کیا۔
- نص موجود ہو تو ذاتی رائے کو اس کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
