صحیح مسلم حدیث ۲۹۷۳ - رائے کے ذکر والی روایت
حج تمتع اور رائے کا ذکر: پچھلی حدیث کی دوسری روایت
صحیح مسلم : ۲۹۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۷۳
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ، وقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي رِوَايَتِهِ " ارْتَأَى رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " ، يَعْنِي عُمَرَ .
جریری سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اور ابن حاتم کی روایت میں یہ ہے کہ پھر ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۷۳ کا خلاصہ
یہ روایت بھی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ والی پچھلی حدیث کے مضمون کو نقل کرتی ہے۔ اس میں خاص طور پر یہ الفاظ آئے کہ ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا، اور متن میں وضاحت ہے کہ مراد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ چونکہ روایت مختصر ہے، اس لیے اس کا اصل مفہوم سابقہ حدیث کے ساتھ سمجھا جائے گا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عشرہ ذی الحجہ میں عمرہ کا عمل ہوا، اس کے بعد ممانعت یا منسوخی کا ذکر نہیں آیا، پھر بعد میں رائے بیان ہوئی۔ حج تمتع کی حدیث، متعہ حج، اور رائے کے مقابلے میں حدیث جیسے الفاظ اس روایت کے لیے اہم ہیں۔ یہاں مقصد کسی شخصیت پر بحث بڑھانا نہیں، بلکہ متن کے اندر نقل شدہ بات کو سادہ انداز میں سمجھنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔
- متن میں بعد کی رائے کا ذکر کیا گیا ہے۔
- حدیث کے الفاظ کو سابقہ روایت کے ساتھ ملا کر سمجھنا چاہیے۔
- کسی شخصیت کے بارے میں اضافی بحث اس مختصر متن کا حصہ نہیں۔
