صحیح مسلم حدیث ۲۹۷۴ - حج اور عمرہ کو جمع کرنے کی حدیث
حج اور عمرہ جمع کرنا: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت
صحیح مسلم : ۲۹۷۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۷۴
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ، ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ ، وَقَدْ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ حَتَّى اكْتَوَيْتُ ، فَتُرِكْتُ ثُمَّ تَرَكْتُ الْكَيَّ فَعَادَ " ،
عمران بن حصین روایت:
میں تم سے ایک حدیث بیان کروں شاید اللہ عزوجل تم کو فائدہ بخشے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ جمع کیا اور پھر اس سے منع نہ فرمایا یہاں تک کہ آپ فوت ہو گئے اور نہ اس میں کوئی قرآن کی آیت اتری جس سے ان کا جمع کرنا حرام ہوتا اور ہمیشہ میرے لیے سلام فرمایا جاتا تھا جب تک میں نے داغ نہیں لیا تھا پھر جب داغ لیا تو سلام موقوف ہو گیا پھر میں نے داغ لینا چھوڑ دیا تو پھر سلام ہونے لگا مجھ سے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ مطرف سے کہتے ہیں کہ میں تمہیں ایسی حدیث سناتا ہوں جس سے اللہ تمہیں فائدہ دے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کیا، پھر آپ نے وفات تک اس سے منع نہیں فرمایا، اور اس بارے میں کوئی قرآن بھی نازل نہیں ہوا جس سے اسے حرام کیا گیا ہو۔ اسی روایت میں سیدنا عمران رضی اللہ عنہ اپنے متعلق سلام کیے جانے اور داغ لینے کے بعد اس کے رک جانے، پھر داغ چھوڑنے پر دوبارہ ہونے کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ اس روایت کا مرکزی موضوع حج اور عمرہ کو جمع کرنا، حج تمتع، اور ممانعت نہ ہونے کا ذکر ہے۔ متن میں دو باتیں آئی ہیں؛ تشریح میں دونوں کو الگ رکھنا ضروری ہے تاکہ حج کے مسئلے کو سلام والے ذاتی واقعے کے ساتھ خلط ملط نہ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کیا۔
- حدیث کے مطابق آپ نے وفات تک اس سے منع نہیں فرمایا۔
- سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے اپنے ذاتی واقعے کو الگ طور پر بیان کیا۔
- ایک روایت میں کئی باتیں ہوں تو ہر بات کو اس کے مقام پر سمجھنا چاہیے۔
